Accessibility links

Breaking News

ضروری ہے کہ ایران اپنی جوہری ذمے داریوں کی جلد تعمیل کرے


فائل فوٹو

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں اسے’’ لازمی اور فوری" قرار دیا گیا ہے کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے میثاق میں تحفظات کے معاہدے کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کو "بغیر تاخیر کے" پورا کرے۔

ان ذمہ داریوں میں یہ وضاحت کرنا کہ شامل ہے کہ اس کے ہاں تین غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے یورینیم کے ذرات کہاں سے آئے ان کی حقیقت کیا ہے اور ادارے کو مطلع کرے کہ جوہری مواد کس مقام پر ہے۔

آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ ایسی معلومات کے بغیر ایجنسی کے تحفظاتی معاہدے کے تحت ایران کے اعلانات کی درستگی اور مکمل ہونے کی تصدیق نہیں کر سکتی۔

سترہ نومبر کو آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی طرف سے منظور کی جانے والی قرارداد اس سال کی دوسری قرارداد ہے۔

جون میں پہلی قرارداد کے بعد تعاون اور شفافیت کے مطالبات پر عمل کرنے کے بجائے ایران نے ایجنسی کی طرف سے اپنے جوہری مقامات کی نگرانی کے لیے نصب کیے گئے درجنوں کیمروں کو ان کی جگہ سے ہٹا دیا۔

نومبر کی قرارداد کے بعد، ایران نے یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ آئی اے ای اے کے ساتھ ہونے والی تیکنیکی میٹنگ کو منسوخ کر دے گا۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایک پریس بریفنگ میں توجہ دلائی کہ بہت طویل عرصے سے ایجنسی کو یہ دیکھنے کا موقع نہیں ملا کہ ایران کے اندر کیا ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا ’’ وہاں بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں جن کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے ہیں۔‘‘

ایک مشترکہ بیان میں، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ کی خارجہ امور کی وزارتوں نے کہا کہ تازہ ترین قرارداد کے ذریعے آئی اے ای اے نے ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ ایران سے جو کچھ کرنے کے لئے کہا جارہا وہ بلا کسی تاخیر کے وہ اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ "ایران کو اپنے ہاں تین غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے یورینیم کے ذرات کی موجودگی کے بارے میں تیکنیکی اعتبار سے قابلِ بھروسہ وضاحتیں فراہم کرنی چاہئیں اور متعلقہ جوہری مواد اور آلات کے بارے میں واضح کرنا چاہیے کہ وہ کہاں اور کس مقام پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ہم نے واضح کیا ہے، اگر ایران ایسا کرتا ہے اور ڈائریکٹر جنرل یہ رپورٹ کرنے کے قابل ہوتے ہیں کہ غیر حل شدہ تحفظاتی امور اب باقی نہیں رہے، تو بورڈ اس معاملے پر غور کرنا ختم کر سکتا ہے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ ایران ان بقیہ معاملات کو طے کرنے کے لیے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کےاس موقع سے نیک نیتی کے ساتھ فائدہ اٹھائے گا، تاکہ ان مسائل پر بورڈ کو مزید کارروائی کی ضرورت نہ رہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG