Accessibility links

Breaking News

امریکہ اور جاپان کا موسمیاتی تبدیلیوں پر تعاون


فائل فوٹو
فائل فوٹو

موسمیاتی تغیر کے معاملے کے بارے میں امریکہ کے خصوصی صدارتی ایلچی جان کیری نے 20 جولائی کی ایک تقریر میں اس جانب توجہ دلائی کہ اگر دنیا کا درجۂ حرارت صنعتی دور کے قبل کی سطح سے 1.5 ڈگری اوپر چلا گیا تو لاکھوں لوگوں کو انتہا درجے کی گرمی کی لہر، خشک سالی اور سیلابوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی درجۂ حرارت میں ممکنہ اضافے میں کمی کرنے کا طریقہ بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ مستقبل میں 1.5 ڈگری کی محفوظ سطح سے درجۂ حرارت میں اضافہ نہ ہونے دیا جائے۔

لیکن ایسا اسی صورت ممکن ہے جب ہر بڑی معیشت 2030 تک معنی خیز انداز میں درجۂ حرارت میں کمی لانے کا عہد کرے اور یہی ایک طریقہ ہے جس سے اس صدی کے نصف تک عالمی سطح پر صفر تک کا معتبر ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اگست کے آخر میں ٹوکیو کے دورے میں خصوصی ایلچی کیری نے موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے دونوں ملکوں کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ چین کے بعد امریکہ دنیا میں گرین ہاؤس گیس خارج کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس فہرست میں جاپان کا ساتواں نمبر ہے۔

جاپان نے عہد کیا ہے کہ اگلے 30 برسوں میں وہ متعدد بڑے اہداف حاصل کرے گا۔ ماحولیات سے متعلق جاپان کے وزیر شنجیرو کوئی زومی کے ساتھ ایک ملاقات میں مسٹر کیری نے کہا کہ جاپان نے بعض مشکل فیصلے کیے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ جاپان نے اگلے 10 برسوں میں گیس کے اخراج میں 45، 46 فی صد سے لے کر 50 فی صد تک کمی کا ہدف مقرر کیا ہے اور 2050 تک اسے صفر پر لانا مقصود ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ اگر عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کو ایک 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو کنڑول کرنے کے اقدامات میں تیزی پیدا کرنی ہو گی۔ لہذٰا موسمیات کی تبدیلی کے حوالے سے امریکہ اور جاپان کی شراکت داری کے تحت، امریکہ اور جاپان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ ایسے شعبوں مثلاً دوبارہ قابلِ استعمال توانائی، کاربن پر قابو پانے، اور صنعت کو کاربن سے پاک کرنے کے لیے اختراع پسندی کے معاملے میں اپنے تعاون کو فروغ دیں گے اور ساتھ ہی زرعی شعبے میں موسمیاتی حوالے سے اختراع پسندی کے کام کو آگے بڑھائیں گے۔

دونوں ملکوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ 2021 کے آخر تک بین الاقوامی پیمانے پر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیے نئی براہِ راست سرکاری امداد ختم کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک اس بات کی کوشش کریں گے کہ وہ 100 ارب ڈالر کی سالانہ رقم میں جس کا وعدہ ترقی یافتہ ممالک نے کر رکھا ہے، اپنا حصہ مہیا کریں تاکہ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تغیر کے اثرات کے خلاف اپنی استقامت کو تقویت دے سکیں، گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو کم کر سکیں اور مستقبل میں کاربن کی سطح کو صفر پر لانے کا ہدف حاصل کر سکیں۔

امریکہ اور جاپان نے اس بات کا عہد کر رکھا ہے کہ وہ موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کے لیے موجودہ عشرے کو فیصلہ کن بنائیں گے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ موسمیاتی بحران سے متعلق ان کی مشترکہ کوششیں، امریکہ اور جاپان کی دو طرفہ شراکت داری کے ستون کے طور پر قائم و دائم رہیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG