Accessibility links

Breaking News

ایران پر پابندیاں بحال


امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو ایک پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف پابندیاں بحال کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی تعزیرات کو دوبارہ بحال کر دیا ہے جن میں ہتھیاروں پر پابندی بھی شامل ہے جو 18 اکتوبر کو ختم ہونے والی تھی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامہ بھی جاری کیا ہے جس کے تحت نئی تعزیرات اور ایک درجن سے زیادہ اداروں اور افراد پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے جن کی وساطت سے ایران کے جوہری ہتھیاروں، میزائلوں اور روایتی ہتھیاروں سے تعلق رکھنے والی سرگرمیوں میں مدد حاصل ہوتی ہے۔

ایک پریس بریفنگ میں وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے صدر کے حکم نامے کو ایک نیا اور طاقت ور ہتھیار قرار دیا جس سے اسلحے پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کا نفاذ کیا جاسکے گا اور جو کوئی بھی اقوامِ متحدہ کی تعزیرات کو نظر انداز کرنا چاہے گا اسے جواب دہ بنایا جاسکے گا۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم نے جو کارروائیاں کی ہیں وہ انتباہ کی حیثیت رکھتی ہیں جسے دنیا بھر میں سنا جانا چاہیے۔ اس سے قطعِ نظر کہ آپ کون ہیں، اگر آپ ایران کے خلاف ہتھیاروں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پھر آپ تعزیرات کا خطرہ مول لیتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ کیلی کرافٹ نے اس جانب اشارہ کیا کہ امریکہ نے یہ حالیہ اقدامات اس وقت اٹھائے جب سلامتی کونسل ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی میں توسیع کرنے میں ناکام رہی۔

مائیک پومپیو نے مزید کہا ہے کہ "سلامتی کونسل کے ارکان کی یہ بے جا امید کہ 'جے سی پی او اے' یعنی ایران سے متعلق نیوکلیئر سمجھوتے سے ایران کے جوہری عزائم کو روکا جا سکتا ہے، سلامتی کونسل کے ارکان کو ان ذمہ داریوں سے مبرا نہیں کرتی کہ قرارداد 2231 میں درج طریقۂ کار کے تحت دوبارہ تعزیرات نہ لگائی جائیں۔ اب ہمیں یہ توقع ہے کہ اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک اپنی قانونی ذمہ داری پوری کریں گے اور ایران کے خلاف دوبارہ تعزیرات عائد کر دیں گے۔

قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ اس صورت میں کہ ایرانی حکومت اپنے وعدوں کی پاسداری میں ناکام رہتی ہے، تو امریکہ ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی تعزیرات دوبارہ عائد کرسکتا ہے اور 2015 میں 'جے سی پی او اے' کی امریکی توثیق کی یہی بنیاد تھی۔

ان کے بقول ایرانی حکومت نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں بارہا دروغ گوئی سے کام لیا ہے اور بین الااقوامی انسپکٹرز کو ضروری رسائی دینے سے انکار کیا ہے۔ موجودہ اقدام ایرانی حکومت کو یہ واضح پیغام ہے کہ اس قسم کا طرزِ عمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔

رابرٹ اوبرائن نے مزید کہا ہے کہ امریکہ بین الااقوامی برادری کو بھی واضح پیغام بھیج رہا ہے کہ جو بھی ایران کو خوش کرنے اور اسے سہولت مہیا کرنے میں لگے ہیں، ان کے لیے لازم ہے کہ انہیں بالآخر ایران کی مذموم سرگرمیوں سے قطع تعلق کرلینا چاہیے۔

قومی سلامتی کے مشیر کے بقول اس کے بجائے کہ جوہری بم یا علاقائی بالادستی کے حصول کے لیے تگ ودو کی جائے، ایرانی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایران کے عوام کو وہ چیزیں مہیا کرے جو وہ چاہتے ہیں اور جس کے وہ مستحق ہیں۔ یعنی ایک پھلتا پھولتا اور خوش حال ایران۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ نے یہ بات صاف طور پر کہی ہے کہ اگر ایران امن کے راستے کا انتخاب کرنے کو تیار ہے تو امریکہ اس کے ساتھ چلے گا۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG