Accessibility links

Breaking News

روہنگیا نسل کشی کی پانچویں برسی


فائل فوٹو


پانچ سال پہلے، برما کی فوج نے روہنگیا کے خلاف تشدد کی وحشیانہ مہم شروع کی تھی۔ فوج نے ان کےدیہات کو مسمار کیا، جنسی زیادتی، تشدد اوربڑے پیمانے پرمظالم کا ارتکاب کیا، جس میں ہزاروں مرد، خواتین اور بچے مارے گئے۔ 740,000 سے زیادہ روہنگیا اپنے گھربارچھوڑکربنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ مارچ 2022 میں وزیرِخارجہ اینٹنی بلنکن نے اعلان کیا کہ روہنگیا کے خلاف برمی فوج نے نسل کشی اورانسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے روہنگیا کے خلاف ان مظالم میں ملوث بہت سی فوجی قوتیں برما کے جمہوری مستقبل کوتاریک کرنے کی کھلی کوشش کر رہی ہیں اوراس مقصد کے حصول کے لیے وہ برما کے لوگوں کو دبانے، تشدد کرنے اورقتل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حکومت کی طرف سے جمہوریت کے حامی اورحزبِ اختلاف کے چاررہنماؤں کو پھانسی دینا فوج کی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو نظر انداز کرنے کی تازہ ترین مثال ہے۔ فوج کے تشدد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں انسانی صورتِ حال بد ترہوگئی ہے، خاص طور پر روہنگیا سمیت نسلی اورمذہبی اقلیتی برادریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے کیوں کہ یہ پہلے ہی ملک میں سب سے زیادہ کمزور اورپسماندہ آبادیاں ہیں۔

نسل کشی کنونشن کے تحت برما کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں گیمبیا کی چارہ جوئی ہویا دنیا بھرکی معتبرعدالتوں کی کارروائیاں، جن کا دائرہ اختیاربرمی فوجی مظالم سے متعلق مقدمات تک ہو سکتا ہے، امریکہ میانمار کے لیے ان کے آزادانہ تحقیقاتی طریقہ کار کی حمایت جاری رکھے گا۔

امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ان قدامات کی بھی حمایت کرتا ہے جو برما کی فوج کے خلاف انصاف اور جواب دہی کے لیے کیے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں برما کی صورت ِحال کوعالمی فوجداری عدالت میں بھیجنے کی بھی حمایت کرے گا۔

امریکہ نے بنگلہ دیش میں پناہ گزین روہنگیا اور برما میں تشدد اور ظلم سے متاثر ہونے والے دیگر افراد کی فوری انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کے لیے 1.7 ارب ڈالر سے زائد کی رقم فراہم کر چکا ہے۔


امریکہ ان لوگوں کے لیے انسانی امداد کا سب سے بڑاعطیہ دہندہ ملک ہے، جن کی زندگی راکھین ریاست میں پر تشدد فوجی کارروائیوں سے متاثر ہوئی ہے۔ امریکہ بنگلہ دیش کی حکومت اور خطے میں روہنگیا کی میزبانی کرنے والی دیگرحکومتوں کے ساتھ یکجہتی کا ظہار کرتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

وزیر خارجہ بلنکن نے اعلان کیا کہ "ہم بنگلہ دیش سمیت، علاقے سے روہنگیا پناہ گزینوں کی دوبارہ آباد کاری میں خاطرخواہ اضافہ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، تاکہ وہ امریکہ آکر اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں"۔

امریکہ انصاف اور احتساب کے فروغ، فوج پراقتصادی اورسفارتی دباؤ بڑھا کر اور برما کےتمام افراد کے انسانی حقوق اور انسانی وقار کے تحفظ کے ذریعے، آزادی، انسانی حقوق اور جمہوریت کے حصول میں روہنگیا اور برما کے لوگوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG