Accessibility links

Breaking News

پائیدار ترقی کے اہداف کے حوالے سے مثبت اور منفی خبریں


فائل فوٹو
فائل فوٹو

دنیا بھر میں ممالک کئی اعتبار سے ایسی رکاوٹوں کوکم یا ختم کر رہے ہیں جوعالمی سطح پر امن اور خوشحالی کی جانب پیش رفت کو متاثر کرتی ہیں جس کا تعین اقوام متحدہ نے پائیدار ترقی کے 17 مقاصد یا ایس ڈی جی کے تحت کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق حکومتیں اقتصادی استحکام کے لئے کام کر رہی ہیں اور اس طرح آب وہوا کے لیے مختلف اقدام اور سماجی تحفظ کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

یہ ایک اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ ایس ڈی جی کے لیے کیے جانے والے اقدام 20 فی صد سے بھی کم حصے کو پورا کر پائے ہیں۔ غربت بدستور ہمارے عہد کا ایک بڑا چیلنج ہے، خوراک کا عدم تحفظ انتہائی سطح کو چھو رہا ہےاور اس کے ساتھ ساتھ انسانی بحران اور بے گھر ہونے کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل کے لیے امریکہ کے نائب نمائندے جوناتھن شرئیر کہتے ہیں کہ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو امریکہ بدستور ایک روشن مستقبل کے حصول کےعزم سے وابستہ ہے جس میں لوگ بھوکے نہ ہوں جہاں ہر ایک کو معیاری حفظان صحت اور تعلیم تک رسائی ہواور جمہوریتیں زیادہ مضبوط اور منصفانہ معاشرہ تشکیل دیں۔

جوناتھن شرئیر کہتے ہیں ’’ہم بائیڈن انتظامیہ کے پہلے تین سالوں میں 150 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے ترقی میں پیش رفت کے عزم کا واضح طور پر مظاہرہ کر رہے ہیں اور پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پیش رفت میں تیزی لانے کے لیے نجی شعبےمیں مزید اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو فعال کر رہے ہیں۔

سفیر شریئر نے کہا کہ ’’ہم شراکت دار ممالک کے لیے عالمی غذائی تحفظ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس کے تحت خوراک کے زیادہ لچکدار اور پائیدار نظام کی تشکیل کرنے، خوراک کی پیداوار میں اضافہ کرنے اور مستقبل کی غیر متوقع صورتِ حال کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔

سفیر کا مزید کہنا ہے کہ اس میں عالمی صحت کے لیے 48 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے ۔اس میں تقریباً 16 بلین ڈالر کی وہ مدد بھی شامل ہے جو کووڈ 19وبائی مرض کے شدید مرحلے کو ختم کرنے، عالمی صحت کو لاحق خطرات کو روکنے، تیاری کرنے اور ان کا جواب دینے کے لیے مشترکہ صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے مختص ہیں۔

سفیر شریئر نے کہا کہ ’’امریکہ دنیا میں زندگی بچانے والی انسانی امداد کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ بھی ہے جس میں داخلی اور بین الاقوامی دونوں طرح کی امداد شامل ہے۔

سفیر شریئر نے کہا کہ ’’وہ معاشرے جو انسانی حقوق اور کارکنوں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں، قانون کی حکمرانی اور انصاف تک رسائی کو برقرار رکھتے ہیں، صنفی مساوات کو فروغ دیتے ہیں، بدعنوانی اور غیر قانونی مالیاتی امور سے نمٹتے ہیں اور تمام شہریوں کے لیے جامع جوابدہ نظم و نسق کی حمایت کرتے ہیں وہی اپنے شہریوں کے لیے پرامن، خوشحال اور جامع مستقبل اور پائیدار ترقیاتی فوائد فراہم کرنے کے لیے بہترین طریق کار سے لیس ہیں۔

سفیر شرئیر کہتے ہیں کہ ’’ کوئی بھی ملک اکیلے ایسا نہیں کر سکتا۔ ہم تمام انسانوں کے موروثی وقار اور حقوق کو برقرار رکھنے اور کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے کے اپنے عہد کو پورا کرنے کی بنیاد پر شراکت کے متنوع قواعد کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

یہ اداریہ امریکی حکومت کے خیالات کی ترجمانی کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG