Accessibility links

Breaking News

برمی ریاست راکھائین میں بڑھتے ہوئے مصائب


فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو برما کی راکھائین ریاست میں بڑھتے ہوئے تشدد اور کشیدگی کی رپورٹوں پر تشویش ہے۔

ان میں قصبوں کو نذرِ آتش کرنے اور روہنگیا افراد سمیت رہائشیوں کے بے گھر ہونے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

ملر لکھتے ہیں کہ ’’روہنگیا افراد کی جبری بھرتی اور اس کے ساتھ ساتھ گمراہ کن اور غلط معلومات کا پھیلاؤاور نفرت انگیز تقاریر کے بارے میں تشویش ناک اطلاعات کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سن 2017 سے سے مسلمان نسلی اقلیت روہنگیا خوفناک تشدد کا ہدف رہی ہے۔ اس وقت برمی فوج نے ان کے خلاف نسل کشی کی مہم کا آغاز کیا تھا۔

سات لاکھ سے زائد روہنگیا افراد سرحد پار بنگلہ دیش کی طرف بھاگ نکلے۔

سن 2021 میں فوج نے آؤنگ سان سوچی کی منتخب حکومت سے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور فوجی حکومت نے پر امن مظاہروں کو وحشیانہ طور پر ختم کر دیا۔

اس صورتِ حال کے نتیجے میں مسلح مزاحمت میں اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی ملک میں سماجی سطح پر تشدد کے واقعات بڑھ گئے۔

راکھائین ریاست میں روہنگیا ایک بار پھر تکلیف میں ہیں اور حالیہ ہفتوں میں تشدد کے نتیجے میں اپنے گھروں کو چھوڑ گئے ہیں۔

بوتھی ڈوانگ کے قصبے اور متعدد نواحی دیہات کو نذرِ آتش کر دیا گیا جہاں روہنگیا رہائش پذیر تھے۔

سرکاری افواج اراکان فوج سے نبرد آزما رہیں۔ اراکان ایک نسلی باغی گروپ ہے جس میں بودھ افراد کی اکثریت ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ملر نے توجہ دلائی کہ برمی فوج کے روہنگیا کو ہدف بنا کر نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم جیسے اقدامات شہریوں کے لیے لاحق خطرے کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی راکھائین ریاست میں گروہی کشیدگی پیدا کرنے کی تاریخ بھی قابلِ غور ہے۔

ترجمان ملر کا کہنا ہے کہ ’’ہم برما کی فوج اور تمام مسلح گروہوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ شہری آبادیوں کا تحفظ کریں اور انسانی بنیادوں پر بلا رکاوٹ رسائی کی اجازت دیں۔

ہم اپنے بین الاقوامی حلیفوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس بڑھتے ہوئے تشدد کی مذمت کریں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ذمے داروں کا احتساب کریں اور تشدد کے نتیجے میں گھر بار چھوڑ کر جانے والے افراد کو تحفظ فراہم کریں تاکہ مستقبل میں ہونے والے مظالم کی روک تھام ہو سکے۔

ترجمان ملر نے کہا کہ ’’امریکہ ہدف بننے والے متاثرین اور بچ جانے والوں کے لئے انصاف کی فراہمی کے لیے پر عزم ہے اوراس کے ساتھ ساتھ مظالم روا رکھنے والے افراد کا احتساب کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں اور فوج پر اس حوالے سے پابندیاں عائد کرے گا یا ان کو اپنے جرائم کی قیمت چکانا ہوگی۔

یہ اداریہ امریکی حکومت کے خیالات کی ترجمانی کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG