Accessibility links

Breaking News

نکاراگوا میں جبرواستبداد کے ذمہ دار افراد کے خلاف تعزیرات


فائل فوٹو

امریکہ، نکاراگوا میں جمہوریت کی بحالی اورانسانی حقوق کے احترام کے لیے دوسری جمہوریتوں کے ساتھ حمایت جاری رکھے گا۔ اس مقصد کے لیے محکمۂ خارجہ نے 116 افراد کے خلاف ویزے کی پابندیوں کا اعلان کیا جو اس ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے میں سازباز کرتے ہیں۔ ان میں میئرز، سرکاری وکلا، یونیورسٹی کے منتظمین اور ساتھ ہی پولیس اورجیلوں کے حکام اور فوجی عہدیدار شامل ہیں۔

اس کے علاوہ غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول سے متعلق محکمۂ خزانہ کے دفتر نے اورٹیگا موریلو حکومت کے چھ ارکان کے خلا ف بھی تعزیرات عائد کی ہیں۔ وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ ہم یہ اقتصادی تعزیرات اورویزے کی پابندیاں اس لیے اختیار کر رہے ہیں کہ تاکہ اورٹیگا موریلوحکومت کی بڑھتی ہوئی آمریت اور اس کی زیادتیوں کے لیے احتساب کو فروغ دیا جا سکے۔

اس حکومت نے 170 سیاسی قیدیوں کواب بھی گرفتارکررکھا ہے اوران میں سے اکثر کو مناسب خوراک اورطبی سہولت سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ دوسرے لوگ قیدِ تنہائی کا شکار ہیں۔

اورٹیگا موریلو حکومت نے ان افراد کو غیر جانبدارانہ صحافت، سول سوسائٹی کی تنظمیوں، انتخابات میں حصہ لینےاور اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرنے اور ایسی ہی دوسری سرگرمیوں میں شریک ہونے پر گرفتار کیا ہے۔ جن کی مسلمہ جمہوری اصولوں کے تحت ضمانت دی جاتی ہے۔

دہشت گردی اورمالیاتی انٹیلی جنس کے لیے محکمۂ خزانہ میں انڈرسیکریٹری برائن نیلسن نے کہا کہ امریکہ اورہمارے شراکت دار صدراورٹیگا، نائب صدرموریلو اوران کے قریبی حلقے کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ان کے مطالبات میں، ہم نکاراگوا کےعوام کے ساتھ مستقل بنیاد پر کھڑے ہیں۔

وزیرخارجہ بلنکن نے کہا کہ اورٹیگا موریلوحکومت نکاراگوا کےعوام کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عدم احترام کا جو مظاہرہ کر رہی ہے، ہم اس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے میں یورپی یونین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

صدراورٹیگا نے ایک نئی صدارتی میعاد کے لیے حلف اٹھایا ہے، تاہم سات نومبر کو انہوں نے پہلے سے طے شدہ اندازمیں جوانتخاب کرایا، اس سے ان کو نیا جمہوری مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہی اس کا مداوا کرسکتے ہیں۔ نکارا گوا کے عوام اس سے کم کسی چیز کے طالب نہیں ہیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG