Accessibility links

Breaking News

امریکہ ، شمالی کوریا کے لیے انسانی امداد کی حمایت کرتا ہے


فائل فوٹو

صحت کے عالمی ادارے نے کووڈ-19 سے متعلق طبی سازو سامان کی شمالی کوریا کو ترسیل شروع کر دی ہے۔ اگرچہ عوامی جمہوریہ کوریا کے لیے اس کی سخت سرحدی پالیسی کے بارے میں کوئی باضابطہ تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا، عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس نے چین کی بندرگاہ دالیان کے ذریعے شمالی کوریا کی بندرگاہ نامپو کے لیے صحت کا ہنگامی سامان، دوائیں اور میڈیکل سپلائی روانہ کرنا شروع کر دی ہیں۔

امریکہ نے اس خبر کا خیرمقدم کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ہم ڈی پی آر کے، کے لیے بنیادی انسانی امداد کی خاطر بین الاقوامی کوششوں کی مسلسل حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے خاص کر امریکہ کی جانب سے ان جاری کوششوں کی جانب توجہ دلائی جن کا مقصد دنیا بھر کی تنظیموں کے لیے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی نمبر 1718 میں توسیع کے معاملے کو آگے بڑھانا ہے تاکہ ڈی پی آر کے، کو زندگی کے بچاؤ کی امداد مہیا کی جا سکے۔

کمیٹی نمبر 1718 شمالی کوریا کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے عائد کردہ تعزیراتی اقدامات پر نظر رکھنے کی ذمہ دار ہے، جس میں بہرحال انسانی امداد کے استثنیٰ پر غور شامل ہے۔

ترجمان پرائس نے واضح طور پر کہا کہ ہم شمالی کوریا کے عوام کے مسائل کو دور کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اس پر زور دینا بھی اہم ہے کہ عوامی جمہوریہ کوریا کی حکومت ملک کے اندر انسانی صورتِ حال کی بنیادی طور پر ذمہ دار ہے۔ اس کی حکومت خود اپنے شہریوں کا برابر استحصال کر رہی ہے، ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے اور ملک کے عوام کے وسائل کو غیر قانونی طریقے سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

ترجمان پرائس نے عوامی جمہوریہ کوریا کی جانب سے امریکہ کی پالیسی کے بارے میں کہا کہ اس کی نوعیت عملی ہے جس کا مقصد اس کے ساتھ سنجیدہ اور پائیدار سفارت کاری اپنانا ہے جس سے امریکہ اپنے اتحادیوں اور اپنی تعینات شدہ افواج کی سلامتی میں اضافہ کر سکے۔

اُن کے بقول ہمارا نصب العین بدستور جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک کرنا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم کسی پیشگی شرط کے بغیر عوامی جمہوریہ کوریا سے ملنے کے لیے تیار ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان پرائس نے کہا کہ امریکہ نے جو پیغامات دیے ہیں، ان میں عوامی جمہوریہ کوریا کے ساتھ تبادلۂ خیال کے لیے خصوصی تجاویز پیش کی گئی ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے رابطے کا مثبت طور پر جواب دیں گے۔

اسی دوران عوامی جمہوریہ کوریا کے خلاف تعزیرات کے حوالے سے مسٹر پرائس نے اس جانب توجہ دلائی کہ انسانی نکتۂ نظر سے بعض استثنیٰ موجود ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اول تو یہ کہ ہم کوئی ایسی چیز نہیں کر رہے جس سے شمالی کوریا کے عوام کی محرومی میں اضافہ ہو جائے۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم ایک مخصوص حکومت سے اختلاف رائے تو رکھ سکتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پر لازم ہے کہ ہمیں عوام کے مصائب کو دور کرنے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG