Accessibility links

Breaking News

شام کے تنازع کے سیاسی حل پر زور


فائل فوٹو
فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے شام میں خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن کا کہنا ہے کہ 2023 شامی شہریوں کے لیے ایک اور المناک سال ثابت ہوا۔ اس برس کے دوران لوگ بڑی تعداد میں مارے گئے، زخمی ہوئے، بے گھر ہوئے، حراست میں لیے گئے اور انہیں اغوا کیا گیا۔

آج ان مسائل کے علاقائی سطح پر پھیلنے کے خطرے کا سامنا ہے۔

شامی اور غیر شامی تمام فعال گروہوں کی طرف سے انتہائی تحمل کی اشد ضرورت ہے اور شام کے لیے ملک گیر سطح پر تشدد میں کمی اور جنگ بندی درکار ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے متبادل نمائندے رابرٹ ووڈ نے کہا ہے کہ ’’ 2023 کے اختتام پر شام کا سیاسی عمل مایوس کن حد تک رکا ہوا ہے اور شامی عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

سفیر رابرٹ ووڈ کہتے ہیں کہ ’’اسد حکومت نے 12سال سے زیادہ عرصے سے شامی عوام کے خلاف وحشیانہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس کے علاوہ شامی شہری اب بھی گزشتہ فروری میں آنے والے زلزلوں کے تباہ کن اثرات سے دوچار ہیں۔ پھر بھی اسد حکومت نے سیاسی عمل میں شامل ہونے کے بجائےگزشتہ چند مہینوں میں شام کے شمال مغرب میں اپنے ہی لوگوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

سفیر ووڈ نے کہا کہ ’’ہم سب جانتے ہیں کہ اس جنگ کی ذمہ داری اسد حکومت پر ہے۔

دسمبر کے آخر میں ’’جنرل اسمبلی نے امریکہ کے تعاون سے شام میں انسانی حقوق کی صورتِ حال سے متعلق ایک قرارداد پر ووٹ دیا جس نے دنیا کو ان زیادتیوں کی یاد دلائی جو حکومت چاہتی ہے کہ ہم بھول جائیں۔ ان میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، ماورائے عدالت قتل، تشدد اور دیگرناروا سلوک، غیر منصفانہ حراست، جبری گمشدگیاں، اور صنفی بنیاد پر تشدد شامل ہیں۔

سفیر رابرٹ ووڈ کہتے ہیں کہ ’’ہم ان اطلاعات سے پریشان ہیں کہ 2019 کے بعد تشدد اپنی بدترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ادلب میں حکومت اور روسی جارحیت کی وجہ سے سینکڑوں شہریوں کی ہلاکتیں شدید تشویش کا باعث ہیں۔

انہوں نے بنیادی ڈھانچے کو جس طرح تباہ کیا ہے اور اس کے نتیجے میں انسانی بنیادوں پر کی جانے والی کارروائیوں کو خطرات لاحق ہیں اور سردی کے موسم میں لاکھوں لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے۔

سفیررابرٹ ووڈ نے کہا کہ ’’ہم اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی اکثریت کے ساتھ شامی حکومت سے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ بلا جواز حراست میں رکھے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرے اور ہزاروں لاپتا افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔

سفیر ووڈ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ ’’ہم علاقائی سطح پر اس صورتِ حال کے پھیلاؤ کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔

سفیر کہتے ہیں کہ ’’ہمیں ثابت قدم رہنا چاہیے اور شام پر مرکوز اور شام کی قیادت میں تنازع کا حل نکالنے کے لیے پرعزم رہنا چاہیے جو قرارداد 2254 کے مطابق ہے اور تنازع کے پائیدار حل کے لیے واحد قابلِ عمل روڈ میپ ہے۔

سفیر رابرٹ ووڈ نے کہا کہ ’’شامی عوام طویل عرصے سے منتظر ہیں۔ وہ اس مستقبل کے حق دار ہیں جس کے لیے انہوں نے بھرپور جدوجہد کی ہے۔ اس میں ان کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا احترام جیسے امور شامل ہیں۔

یہ اداریہ امریکی حکومت کے خیالات کی ترجمانی کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG