Accessibility links

Breaking News

رابرٹ لیونسن کی ایران میں اغوا کو 14 سال مکمل


فائل فوٹو

اس واقعے کو 14 سال پورے ہو گئے جب ایک محبوب خاوند، والد، دادا، نانا، اور ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ رابرٹ لیونسن لاپتا ہوگئے تھے۔ دسمبر میں امریکہ نے ایران کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کی وزارت کے دو اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف تعزیرات عائد کر دیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ لیونسن کے اغوا اور ان کی ممکنہ موت میں ملوث ہیں۔ وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ مقدمہ ابھی بند نہیں ہوا ہے۔

وزیرِ خارجہ نے اس جانب توجہ دلائی کہ انہوں نے حال ہی میں لیونسن خاندان سے بات کی ہے۔ 2007 میں اپنے اغوا کے بعد مسٹر لیونسن تمام گریجویشن، شادیوں اور اپنے پوتے، پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی پیدائش کے وقت موجود نہیں رہے۔ مسٹر لیونسن کا خاندان ان سوالوں کے جواب کا منتظر ہے کہ 14 برس پہلے جب وہ کیش کے جزیرے میں گئے تھے اس کے بعد سے کیا کچھ ہوا۔

دوسرے امریکی بھی اس وقت ایران میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک باقر نمازی ہیں۔ ایرانی حکومت نے علیل ایرانی نژاد امریکی کو جن کی عمر84 سال ہے، 2018 میں ان کے شدید طبی مسائل کی وجہ سے رہا کیا۔ تاہم ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد ہے حالاں کہ گزشتہ برس قید کی ان کی باقی سزا تبدیل کردی گئی ہے۔

باقر نمازی کو پانچ سال پہلے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے بیٹے سیامک سے ملنے ایران گئے تھے جو ایک تاجر ہیں جنہیں 2015 میں ایران کے اندرغیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔

باپ بیٹے پر یہ غلط الزام لگا دیا گیا تھا کہ وہ ایک دشمن طاقت سے ساز باز کر رہے تھے۔

باقر نمازی کی گرفتاری کا ایک اور سال مکمل ہونے پر یرغمالیوں سے متعلق امریکی صدر کے ایلچی روجر کارسٹینز نے ٹوئٹ کی کہ آج نمازی خاندان کے لیے ان افراد کی رہائی کے مطالبے کے سلسلے میں ایک اور غمگین دن ہے۔ یہ امریکی فیملی بدستور جدائی کا شکار ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے ایران نے امریکی شہری باقر نمازی کو گرفتار کررکھا ہے جب کہ ان کے امریکی بیٹے سیامک کو ایوین کی جیل میں غیر قانونی طور پر قید میں رکھا جا رہا ہے۔ ایران کے لیے لازم ہے کہ وہ آزادی کے ماحول میں ان کے دوبارہ ملاپ کی اجازت دے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے اعلان کیا کہ ہم ایرانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بارے میں معتبر جواب دے کہ لیونسن کے ساتھ کیا ہوا؟ اور فوری طور پر اور بحفاظت ان تمام امریکی شہریوں کو رہا کردے جنہیں غیر منصفانہ طور پر ایران میں حراست میں لیا گیا ہے۔ سیاسی مقاصد کے لیے غیر منصفانہ گرفتاریوں کا گھناؤنا فعل فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG