Accessibility links

Breaking News

آسیان ممالک سے امریکہ کی دیرینہ وابستگی کا اظہار


امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو رواں سال ستمبر میں ہونے والے آسیان وزرائے خارجہ کے آن لائن اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ طویل عرصے سے جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم (آسیان) کا دوست رہا ہے۔ اس تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس سے امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ویڈیو خطاب میں کہا ہے کہ 'انڈو پیسیفک' کے مستقبل کے لیے ہماری سوچ ایک دوسرے سے بہت ملتی جلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ 'انڈو پیسیفک' میں آسیان کی مرکزیت اور آسیان کے رکن ملکوں کی
خوش حالی کی حمایت کرتا ہے۔

مائیک پومپیو نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہم آسیان کے ملکوں میں کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے اعانت کے طور پر آٹھ کروڑ نوے لاکھ ڈالر مہیا کر رہے ہیں جو 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی اُس رقم کا حصہ ہے جو ہم نے دنیا بھر میں مہیا کی ہے۔ ہم نے انڈونیشیا کو 850 وینٹی لیٹرز مہیا کیے ہیں اور آئندہ دو ہفتوں کے دوران توقع ہے کہ مزید 150 مہیا کیے جائیں گے۔ اسی طرح فلپائن کو بھی 100 وینٹی لٹرز دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

وزیرِ خارجہ پومپیو نے کئی نئے اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے جن کا مقصد اقتدارِ اعلٰی اور اپنی ترقی کو مستحکم کرنے میں آسیان کے ملکوں کی مدد کرنا ہے۔ ان کے بقول پہلی بات تو یہ ہے کہ 2021 سے 2025 کی مدت میں آسیان اور امریکہ کے درمیان پلان پر عمل درآمد کرنے میں ہم مسرت محسوس کرتے ہیں جس سے 'انڈو پیسیفک' کے بارے میں آسیان کے نکتۂ نظر کے مطابق مستقبل میں ہمارے رابطے کا تعین ہو سکے گا۔ ہم میکانگ کے علاقے کے پانچ ملکوں کے ساتھ اپنے رابطے کو وسعت دینے کے لیے میکانگ امریکہ شراکت داری کا آغاز بھی کر رہے ہیں۔ میکانگ کا علاقہ آسیان کی خوش حالی اور اتحاد کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کے بقول ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ افرادی قوت سے متعلق امریکہ-آسیان اور لیڈرز اسٹیٹمنٹ کے منصوبے کو آگے بڑھایا جائے اور نئے منصوبوں کے ذریعے اس کو تقویت دی جائے۔ امریکی حکومت کا ارادہ ہے کہ نئی 'ینگ ساؤتھ ایسٹ ایشین لیڈرز اکیڈم'ی اور ویت نام فل برائٹ یونیورسٹی کے لیے 50 لاکھ ڈالر مہیا کیے جائیں گے۔

یہ رقم اس ایک کروڑ تیس لاکھ ڈالر کے علاوہ ہے جو امریکہ آسیان اسمارٹ سِٹیز کی شراکت کے تحت پروگراموں کے لیے دی گئی ہے جس کی مدد سے پیداوری صلاحیت بڑھائی جائے گی اور لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہو گا۔

اور حتمی بات یہ ہے کہ امریکہ نے حالیہ عالمی وبا اور مستقبل میں ایسی ہی کسی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے آسیان کے ملکوں کی مدد کی خاطر نئے وسائل مختص کیے ہیں۔

صحتِ عامہ کے لیے ہنگامی رابطے سے متعلق آسیان کے نظام کے تحت محکمۂ خارجہ کے 15 لاکھ ڈالر کے فنڈ سے آسیان کی صلاحیت میں اس حد تک اضافہ ہو گا کہ وہ عوامی صحت سے متعلق پیدا ہونے والے بحرانوں کا مقابلہ کر سکے اور حقیقتاً آئندہ کسی عالم گیر وبا سے بچاؤ میں مدد بھی دے سکے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کے بقول مستقبل کے نکتۂ نظر سے ہیلتھ المنائی نیٹ ورک قائم کیا ہے جس کے تحت کووِڈ سے مقابلے اور اس سے نمٹنے کے لیے بہترین صلاحیتوں کا تبادلہ کیا جا سکے گا اور امریکہ کا محکمہ برائے ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز یہ بھی چاہتا ہے کہ آسیان کے صحت کے شعبے کے ساتھ اپنے تعلقات کو باضابطہ شکل دی جائے۔

وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم آسیان کے علاقے میں اپنے دوستوں کی اعانت کے لیے امریکہ کی کوششوں پر فخر کرتے ہیں اور آپ اس بات پر بھروسہ کر سکتے ہیں کہ یہ کام جاری رہے گا۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

See comments

XS
SM
MD
LG