Accessibility links

Breaking News

تنازعات انسانی امداد کی ضرورتوں کو جنم دیتے ہیں


فائل فوٹو

یو ایس ایڈ کی منتظم سمانتھا پاور نے کہا ہے کی پیش گوئی کی جارہی ہے کہ سنہ 2022 میں ایک چوتھائی ارب سے زیادہ لوگ محتاجی کا شکار ہوسکتے ہیں جوعشروں کے اعداد و شمار کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ نہ ختم ہونے والی عالمگیر وبا زندگیوں کا مستقل خاتمہ کررہی ہے، معیشت کو تباہ کررہی ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو انسانی بحران کی جانب دھکیل رہی ہے۔ دنیا کی آبادی میں ایک فیصد سے زیادہ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ غذائی عدم استحکام غیر معمولی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی طویل مدت تک جاری رہنے والے تنازعات، باربار کے پیچیدہ ہنگامی حالات اورموسمیاتی تبدیلی کےاثرات منڈلا رہے ہیں جن سے نقصانات میں اضافہ ہورہا ہے اور کامیابیاں ناکامیوں میں تبدیل ہورہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے عالمی جائزے برائے 2022 کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منتظم پاور نے اس جانب توجہ دلائی کہ اس بات کے پیش نظر کہ آج کی دنیا میں انسانی ضروریات کی بڑی وجہ عالمگیر وبائیں یا قدرتی آفات نہیں بلکہ تنازعات ہیں اوراسی لیے اس سے نمٹنے کے اقدامات میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے، جواضافی وسائل کی ضرورت سے بھی پرے ہے۔ یمن، شام، صومالیہ اور جنوبی سوڈان کو ہی لے لیں جہاں طویل جنگیں لوگوں کا پیچھا کر رہی ہیں اور ان کی سرحدوں سے پرے استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ اس سال ہم نے برما میں بغاوت، افغانستان میں طالبان کا قبضہ، سوڈان میں فوج کی جانب سے حکومت پر قبضہ اورایتھوپیا میں بڑھتی ہوئی انسانی تباہ کاریاں دیکھی ہیں۔

ان بہت سے معاملات میں تنازعات سے متاثرہ ملکوں میں حکومتیں لوگوں کی ضروریات سے نبرد آزما ہونے میں نہ صرف ناکام رہی ہیں بلکہ اقتدار سے دست بردار ہونے یا لوگوں کے حقوق یا کثیر جمہوری طریقوں کے بجائے تشدد کا انتخاب کیا ہے۔

منتظم پاور نے کہا کہ ان تنازعات کے جاری رہنے کی وجہ سےان کا بوجھ موجودہ حالات میں غیرمنصفانہ انداز میں اور مکمل طور پرانسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں پرپڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کا جواب سیاسی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ بات اتنی اہم ہے کہ امریکہ اور دوسرے ممالک اس پرعمل کرتے ہیں جسے صدر بائیڈن نے ان تھک سفارت کاری قراردیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جب کبھی کوئی تنازع پیدا ہوگا یا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے لوگوں کو خطرہ درپیش ہوتا ہے، امریکہ مدد کے لیے تیار ہوگا اوردوسروں کی حمایت کو یکجا کرے گا۔ لیکن ایک بدلتی ہوئی دنیا میں جہاں ضرورتوں میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے، ہم یکسانیت کے ساتھ کی جانے والی کوششیں، ایک ہی انداز کی اپیلیں اور زیادہ سے زیادہ مالی اعانت مہیا نہیں کرسکتے اورمختلف نتائج کی توقع نہیں کرسکتے۔

سمانتھا پاور نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تنازعات کو ختم کرنے کے لیے عالمی سفارت کاری کوبروئے کار لائیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سفارتی مذاکرات کو علاقائی بنیاد پراقوام متحدہ کی سطح پر اور دو طرفہ تعلقات کے ضمن میں استعمال کریں اوراتحادیوں کی طرح یکجا ہوں تاکہ تنازعات کوختم کرنے کے لیے فریقین کوایک جگہ جمع کرنے کی کوششیں کی جاسکیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG